30 اگست 2011 - 19:30

آیت اللہ دری نجف آبادی نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے: آل خلیفہ نے نہ صرف علمائے دین کے حقوق تسلیم نہيں کئے بلکہ دوسرے حکمرانوں کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے علماء اور بزرگوں کے خلاف بہتان تراشی اور شدت آمیز رویہ اپنا چکی ہے اور حال ہی میں اس کے ایک وزیر ـ جس کی ذمہ داری عدل و تقوی کی پاسداری ہے ـ نے بحرین کی اخلاقی شخصیت، صداقت پیشہ اور خدمتگذار عالم دین اور اس ملک میں عدل و انصاف اور وحدت و یکجہتی کے حامی عالم دین کی نسبت بے ادبی روا رکھی جو باعث شکوہ اور افسوس ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عالمی اہل بیت ایجنسی کے رکن شورائے عالی اور اراک کے امام جمعہ آیت اللہ قربان علی دری نجف آبادی نے آل خلیفہ حکومت کی جانب سے بحرین کے رہبر انقلاب حضرت آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کو دھمکی آمیز مراسلہ بھیجنے پر اپنے مذمتی بیان میں آل خلیفہ حکومت کے اراکین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام سے جھگڑا کرنے اور ان کے مد مقابل کھڑے ہونے کی بجائے علماء کی دعوت پر لبیک کہہ دیں اور ان کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے عوام کے جائز مطالبات پر عمل کریں۔بیان کا متن:

بسم الله الرحمن الرحیمقال رسول الله(ص): «اذا ظهرت البدع فی امتی فعلی العالم أن یظهر علمه و الا فعلیه لعنة الله ـ جب میری امت میں بدعتیں ظاہر ہوجائیں تو عالم کو اپنا علم ظاہر کرنا چاہئے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے۔

بحرین کے شریف اور مسلم عوام!سلام علیکم و رحمۃ اللہ میں ابتداء میں عید سعید فطر کے سلسلے میں فداکار عوام اور عاشقان اہل بیت (ع) کو ہدیۂ تبریک و تہنیت عرض کرتا ہوں اور اللہ تعالی کی بارگاہ سے ان خاندان نبوت (ص) کے دوستداروں اور قرآن و اسلام کے حامیوں کی طاعات و عبادات اور مجاہدات کی قبولیت کی دعا کرتا ہوں۔حالیہ چند مہینوں کے دوران آپ کے ملک میں پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے توقع یہ تھی کہ بحرین کی حکومت اس سرزمین کے باسیوں کے بر حق مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے عوام کے شرعی، قانونی اور اخلاقی حقوق کو تسلیم کرے اور جنگ و جدل اور مخالفت سے دستکش ہو لیکن افسوس کہ بحرین کے حکمرانوں نے نہ صرف عوام کے حقوق کا انکار کیا علماء اور بزرگوں کے خلاف بہتان تراشی اور شدت آمیز رویہ اپنا چکی ہے اور حال ہی میں اس کے ایک وزیر ـ جس کی ذمہ داری عدل و تقوی کی پاسداری ہے ـ نے بحرین کی اخلاقی شخصیت، صداقت پیشہ اور خدمتگذار عالم دین اور اس ملک میں عدل و انصاف اور وحدت و یکجہتی کے حامی عالم دین کی نسبت بے ادبی روا رکھی جو باعث شکوہ اور افسوس ہے۔کیا حقیقت میں حق گوئی، حق طلبی اور عدل پسندی کا جواب شدت پسندی اور تشدد ہے؟ کیا نماز جمعہ کا مورچہ لوگوں کے دین و دنیا کے امور کی اصلاح کے لئے نہیں ہے؟ کیا خطابت اور منبر رسول (ص) رائے عامہ کو روشن کرنے اور اسلام و قرآن کا دفاع و تحفظ کرنے کے لئے نہیں ہے؟ اور اگر ائمہ جمعہ اور علمائے اسلام حق و عدل کا دفاع و تحفظ نہ کریں پس کون ہے جو مظلومین کے حقوق اور اسلام عزیز کا دفاع کرے گا؟ اور ہاں! اگر دین کی تفسیر علماء اور فقہائے اسلام کی ذمہ داری ہے ـ جبکہ ایسا ہی ہے ـ تو اقتدار کے نشے میں مست حکمران ان کی ذمہ داریوں میں مداخلت کیوں کرتے ہیں؟ وہ، علماء کو محدود کرکے انہیں دھمکیاں دے کر اسلام اور اخلاق کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیوں کررہے ہیں؟ وہ حضرات جو آزادی اور جمہوریت کے دعویدار ہیں کیا انہیں زوال یافتہ ڈکٹیٹروں کے انجام سے سبق نہیں سیکھنا چاہئے؟جہاں تک میں جناب الحاج شیخ عیسی قاسم کو جانتا ہوں تو میں نے ان کے اخلاق اور طرز سلوک میں اخلاق، ادب، قانون کے احترام، بحرینی عوام کے حقوق کی پاسداری اور انہیں امن و سلامتی کی دعوت دینے کے بغیر کچھ بھی مشاہدہ نہیں کیا ہے۔  چنانچہ میں بحرینی حکمرانوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ عوام کے ساتھ جھگڑا کرنے اور ان کے مدمقابل کھڑے ہونے کی بجائے علماء کی دعوت کو لبیک کہیں اور ان کے حقوق کو تسلیم کریں اور جان لیں کہ ڈرانے دھمکانے کا رویہ کسی حال میں بھی کسی نتیجے کے حصول میں کارگر ثابت نہیں ہوا کرتا؛ والقسر لایدوم (فطرت کے خلاف کوئی بھی حرکت طویل عرصے تک جاری رہنے کے قابل نہیں ہوتی)۔میں نے جو کچھ بیان کیا اس کا سبب خیرخواہی اور ہمدردی ہے اور مجھے امید ہے کہ علماء کی خیرخواہی اور ہمدردی کو توجہ دی جائے اور اس کو "النصیحة لأئمة المسلمین" [نصیحت ائمہ مسلمین کے لئے ہے] کے عنوان سے تسلیم کیا جائے۔ البتہ ہم سب کو روز حساب اور اللہ کے مؤاخذے کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ اللہ بہت سرعت سے محاسبہ کرنے والا ہے۔ (واللہ سریع الحساب)۔خداوند عالم اسلام اور مسلمانوں کو نصرت عطا فرمائے اور دشمنان اسلام، عالمی استکبار اور صہیونیت کے شر کو اسلامی ممالک سے قلع و قمع فرمائے۔ ان شاء اللہ ۔۔۔ بِمَنِّه وَ کَرَمِه.

قربان علی دری نجف‏آبادیرکن پریزائڈنگ بورڈ خبرگان قیادت کونسل و امام جمعہ اراک28/8/2011

/110

- شیخ عیسی قاسم اور علمائے بحرین کو آل خلیفہ کی دھمکیوں پر عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کا مذمتی بیان / اہم لنک

- جمعیۃ الوفاق الاسلامی: آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کو آل خلیفہ کی دھمکیاں کمزوروں کی منطق ہے

- پاکستانی ذرائع؛ پاکستان بحرین کی جمہوری تحریک دبانے کے لئے مزید فعال